مرکزی مواد پر جائیں

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

آج کی تاریخ: 9 جمادی الاولیٰ 1448ھ. حسابی ہجری تاریخ · مقامی رؤیتِ ہلال سے مشروط۔

شیئر کریں

بالکونی اور چھت پر سبزیاں اگائیں

تحریر:احمد جابر
اشاعت
تازہ کاری:
منٹ
4 منٹ کا مطالعہ
دھوپ والی کھڑکی پر مٹی کے گملوں میں اگا ہوا پودینہ اور ہرا دھنیا
تصویر: Sunnah info

تھوڑی سی جگہ، چند گملے اور دھوپ: گھر میں پودینہ، دھنیا، ٹماٹر اور ہری مرچ اگانا آسان ہے۔ نئے شوقین افراد کے لیے مکمل رہنمائی۔

گھر کی بنی سبزی کا ذائقہ ہی کچھ اور ہوتا ہے۔ شہروں میں صحن نہ ہو تب بھی بالکونی، کھڑکی یا چھت پر چند گملوں میں روزمرہ کی سبزیاں اگائی جا سکتی ہیں۔ یہ صحت مند مشغلہ بھی ہے اور بچوں کو قدرت سے جوڑنے کا خوبصورت ذریعہ بھی۔

شروع کرنے سے پہلے

  1. دھوپ: زیادہ تر سبزیوں کو روزانہ کم از کم 5 سے 6 گھنٹے دھوپ چاہیے۔ دیکھیں کہ آپ کی بالکونی پر دھوپ کتنی دیر رہتی ہے۔
  2. گملے: نیچے پانی نکلنے کے سوراخ ضروری ہیں۔ پرانی بالٹیاں اور ڈبے بھی سوراخ کر کے استعمال ہو سکتے ہیں۔
  3. مٹی: عام مٹی، گلی سڑی کھاد (کمپوسٹ) اور تھوڑی ریت ملا کر ہلکی اور بھربھری مٹی بنائیں۔

آسان پودے جن سے آغاز کریں

پودینہ

سب سے آسان۔ بازار کے پودینے کی ٹہنیاں پانی میں رکھیں، چند دنوں میں جڑیں نکل آئیں گی، پھر گملے میں لگا دیں۔ یہ تیزی سے پھیلتا ہے، اس لیے الگ گملے میں لگائیں۔

ہرا دھنیا

ثابت دھنیا ہلکا سا کچل کر (ہر بیج کے دو حصے کر کے) مٹی میں بو دیں۔ تقریباً ایک سے دو ہفتوں میں پودے نکل آتے ہیں۔ پاکستان کے زیادہ تر علاقوں میں سردی کا موسم دھنیے کے لیے بہتر ہے۔

ہری مرچ اور ٹماٹر

ان کے لیے کم از کم 12 انچ گہرا گملا اور بھرپور دھوپ ضروری ہے۔ نرسری سے تیار پنیری لینا آسان ہے۔ ٹماٹر کے پودے کو بڑھنے پر لکڑی کا سہارا دیں۔

پالک اور میتھی

کم گہرے مگر چوڑے گملوں میں آسانی سے اگتی ہیں اور چند ہفتوں میں کاٹنے کے قابل ہو جاتی ہیں۔ دوبارہ کاٹنے کے لیے جڑ چھوڑ دیں۔

پانی دینے کا طریقہ

  • انگلی مٹی میں ڈال کر دیکھیں؛ اوپر کی ایک انچ مٹی خشک ہو تو پانی دیں۔
  • گرمیوں میں صبح سویرے یا شام کو پانی دیں۔
  • ضرورت سے زیادہ پانی جڑیں گلا دیتا ہے؛ یہ نئے شوقین افراد کی سب سے عام غلطی ہے۔
  • پانی ضائع نہ کریں؛ سبزیاں دھونے کا بچا ہوا صاف پانی پودوں کو دیا جا سکتا ہے۔

گھر میں کھاد بنائیں

سبزیوں اور پھلوں کے چھلکے، چائے کی استعمال شدہ پتی اور سوکھے پتے ایک ڈبے میں مٹی کے ساتھ تہہ در تہہ جمع کریں اور کبھی کبھار الٹ پلٹ کریں۔ چند ہفتوں میں یہ قدرتی کھاد بن جاتی ہے۔ گوشت اور تیل والی چیزیں نہ ڈالیں ورنہ بو آئے گی۔

کیڑوں سے حفاظت

پتوں کے نیچے باقاعدگی سے دیکھیں۔ چھوٹے کیڑے ہوں تو پانی کی تیز دھار سے دھو دیں یا ہلکے صابن والے پانی کا اسپرے کریں۔ زہریلی دواؤں سے بچیں کیونکہ یہ سبزی آپ نے خود کھانی ہے۔

درخت لگانا صدقہ ہے

صحیح بخاری و مسلم کی حدیث ہے کہ جو مسلمان درخت لگاتا یا کھیتی کرتا ہے اور اس سے کوئی انسان، پرندہ یا جانور کھاتا ہے تو یہ اس کے لیے صدقہ ہے۔ یوں آپ کا یہ چھوٹا سا باغ ثواب کا ذریعہ بھی بن سکتا ہے۔

خلاصہ

دھوپ، سوراخ والا گملا اور بھربھری مٹی، بس اتنا کافی ہے۔ پودینے اور دھنیے سے آغاز کریں، پانی احتیاط سے دیں اور بچوں کو بھی ساتھ شامل کریں۔

شیئر کریں

شیئر کریںواٹس ایپ