سیدنا صدیقِ اکبر رضی اللہ عنہ کی سیرت کے روشن پہلو
- اشاعت
- تازہ کاری:
- منٹ
- 4 منٹ کا مطالعہ

غار کے ساتھی، پہلے خلیفہ اور سچائی کی علامت۔ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی زندگی کے وہ پہلو جو ہر مسلمان کے لیے مشعلِ راہ ہیں۔
اس مضمون میں10فہرستِ مضمون دیکھیں
حضور ﷺ کے بعد امت میں سب سے بلند مقام سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا ہے۔ اہلِ سنت و جماعت کا متفقہ عقیدہ ہے کہ انبیائے کرام کے بعد تمام انسانوں میں سب سے افضل حضرت ابوبکر صدیق ہیں، پھر حضرت عمر فاروق، پھر حضرت عثمان غنی اور پھر حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہم۔
نام اور ابتدائی زندگی
آپ کا نام عبداللہ اور والد کا نام عثمان تھا جو ابو قحافہ کی کنیت سے مشہور تھے۔ آپ قریش کے معزز تاجر تھے۔ اسلام سے پہلے بھی آپ اپنی سچائی، نرم دلی اور اچھے اخلاق کی وجہ سے مکہ میں عزت کی نگاہ سے دیکھے جاتے تھے اور حضور ﷺ کے قریبی دوست تھے۔
سب سے پہلے ایمان
آزاد بالغ مردوں میں سب سے پہلے اسلام قبول کرنے کا شرف آپ کو حاصل ہے۔ آپ نے ایمان لاتے ہی دوسروں کو دعوت دینا شروع کی، اور کئی جلیل القدر صحابہ آپ کی دعوت پر مسلمان ہوئے۔
"صدیق" کا لقب
جب حضور ﷺ نے معراج کا واقعہ بیان فرمایا اور بعض لوگوں نے اس کا انکار کیا تو آپ نے بلا جھجک فرمایا کہ اگر حضور ﷺ نے یہ فرمایا ہے تو سچ فرمایا ہے۔ اسی بے مثال تصدیق کی وجہ سے آپ "صدیق" کے لقب سے مشہور ہوئے۔
غار کے ساتھی
ہجرت کے سفر میں آپ حضور ﷺ کے ساتھ تھے اور غارِ ثور میں ساتھ رہے۔ قرآنِ کریم نے اس رفاقت کا ذکر فرمایا:
ثَانِيَ اثْنَيْنِ اِذْ هُمَا فِي الْغَارِ اِذْ يَقُوْلُ لِصَاحِبِهٖ لَا تَحْزَنْ اِنَّ اللّٰهَ مَعَنَامفہوم: دو میں سے دوسرے، جب وہ دونوں غار میں تھے، جب وہ اپنے ساتھی سے فرما رہے تھے: غم نہ کرو، بے شک اللہ ہمارے ساتھ ہے۔ (سورۃ التوبہ، آیت 40)
یہ وہ اعزاز ہے کہ قرآن نے آپ کو حضور ﷺ کا "صاحب" یعنی ساتھی کہا۔
اللہ کی راہ میں سب کچھ
غزوۂ تبوک کے موقع پر جب حضور ﷺ نے صدقے کی ترغیب دی تو حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اپنا سارا مال لے آئے۔ پوچھا گیا کہ گھر والوں کے لیے کیا چھوڑا؟ عرض کیا: ان کے لیے اللہ اور اس کا رسول چھوڑ آیا ہوں۔ (جامع ترمذی) آپ نے اپنے مال سے کئی مظلوم غلاموں کو خرید کر آزاد بھی کیا۔
حضور ﷺ کی محبت
صحیح بخاری میں ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا: اگر میں (اپنے رب کے سوا) کسی کو خلیل بناتا تو ابوبکر کو بناتا۔ حضور ﷺ کی آخری بیماری میں آپ ہی نے صحابۂ کرام کو نماز پڑھائی۔
خلافت
حضور ﷺ کے وصال کے بعد صحابۂ کرام نے آپ کو پہلا خلیفہ منتخب کیا۔ تقریباً سوا دو سال کی مختصر خلافت میں آپ نے امت کو متحد رکھا، جھوٹے مدعیانِ نبوت اور زکوٰۃ کے منکرین کے فتنوں کا مقابلہ کیا اور قرآنِ کریم کو ایک جگہ جمع کروانے کا عظیم کام کروایا۔
وصال
آپ کا وصال 22 جمادی الآخر 13 ہجری کو ہوا اور آپ کو حضور ﷺ کے پہلو میں دفن کیا گیا۔ آج بھی روضۂ رسول ﷺ پر حاضری دینے والا حضرت ابوبکر صدیق اور حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہما کی خدمت میں بھی سلام پیش کرتا ہے۔
ہمارے لیے سبق
- سچائی پر ڈٹ جانا، چاہے لوگ کچھ بھی کہیں۔
- حضور ﷺ کی بات پر بلا چوں و چرا یقین۔
- دین کی خاطر مال اور وقت قربان کرنا۔
- اقتدار ملنے پر بھی عاجزی اور سادگی۔
خلاصہ
سیدنا صدیقِ اکبر رضی اللہ عنہ کی زندگی ایمان، وفا اور قربانی کی روشن مثال ہے۔ ان کی سیرت پڑھنا اور اسے اپنی اولاد کو سنانا ایمان کو تازہ کرتا ہے۔
شیئر کریں


