مرکزی مواد پر جائیں

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

آج کی تاریخ: 9 جمادی الاولیٰ 1448ھ. حسابی ہجری تاریخ · مقامی رؤیتِ ہلال سے مشروط۔

شیئر کریں

عقیدۂ ختمِ نبوت: قرآن و حدیث کی روشنی میں

تحریر:احمد جابر
اشاعت
تازہ کاری:
منٹ
4 منٹ کا مطالعہ
لکڑی کی میز پر پرانی جلد والی کتابوں کا ڈھیر اور پیتل کا لیمپ
تصویر: Sunnah info

حضور ﷺ اللہ تعالیٰ کے آخری نبی ہیں اور آپ کے بعد کوئی نیا نبی نہیں آئے گا۔ یہ عقیدہ ایمان کی بنیاد ہے۔ قرآن و حدیث سے اس کے دلائل اور ہماری ذمہ داری۔

مسلمان کا ایمان صرف اس بات پر مکمل نہیں ہوتا کہ حضرت محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں، بلکہ اس پر بھی کہ آپ ﷺ اللہ تعالیٰ کے آخری نبی اور رسول ہیں۔ نبوت کا سلسلہ حضرت آدم علیہ السلام سے شروع ہوا اور حضور ﷺ پر مکمل ہو گیا۔ اسی عقیدے کو "ختمِ نبوت" کہا جاتا ہے، اور امتِ مسلمہ چودہ سو سال سے اس پر متفق ہے۔

قرآنِ کریم کی واضح آیت

اللہ تعالیٰ نے سورۃ الاحزاب میں اپنے محبوب ﷺ کا ذکر ان الفاظ میں فرمایا:

مَا كَانَ مُحَمَّدٌ اَبَآ اَحَدٍ مِّنْ رِّجَالِكُمْ وَلٰكِنْ رَّسُوْلَ اللّٰهِ وَخَاتَمَ النَّبِيّٖنَ

مفہوم: محمد (ﷺ) تمہارے مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں، لیکن وہ اللہ کے رسول ہیں اور سب نبیوں میں آخری ہیں۔ (سورۃ الاحزاب، آیت 40)

"خاتم" کا مطلب مہر ہے۔ جس طرح کسی خط پر مہر لگ جائے تو اس کے بعد اس میں کچھ داخل نہیں کیا جاتا، اسی طرح حضور ﷺ کی تشریف آوری سے نبوت کے دروازے پر مہر لگ گئی۔ صحابۂ کرام، تابعین اور تمام مفسرین نے اس آیت کا یہی مطلب بیان کیا ہے۔

احادیثِ مبارکہ

حضور ﷺ نے خود بھی بار بار اس حقیقت کو بیان فرمایا تاکہ کسی کو کوئی شبہ نہ رہے۔ غزوۂ تبوک کے موقع پر جب آپ ﷺ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو مدینہ میں اپنا نائب بنایا تو فرمایا کہ تم میرے لیے ایسے ہو جیسے ہارون موسیٰ کے لیے تھے، مگر یہ کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں۔ یہ حدیث صحیح بخاری اور صحیح مسلم دونوں میں موجود ہے۔

لَا نَبِيَّ بَعْدِيْ

مفہوم: میرے بعد کوئی نبی نہیں۔

ایک اور مشہور حدیث میں آپ ﷺ نے انبیائے کرام کی مثال ایک خوبصورت عمارت سے دی جس میں صرف ایک اینٹ کی جگہ خالی تھی، اور فرمایا کہ وہ آخری اینٹ میں ہوں اور میں خاتم النبیین ہوں۔ (صحیح بخاری، صحیح مسلم)

صحابۂ کرام کا طرزِ عمل

حضور ﷺ کے وصال کے بعد جب بعض لوگوں نے نبوت کا جھوٹا دعویٰ کیا تو خلیفۂ اول حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے صحابۂ کرام کے مکمل اتفاق سے ان کے خلاف قدم اٹھایا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ پہلے دن سے امت کے نزدیک یہ مسئلہ کتنا بنیادی تھا۔ کسی صحابی نے یہ نہیں کہا کہ پہلے دعوے دار کی بات سن لی جائے؛ سب نے اسے دین کی بنیاد پر حملہ سمجھا۔

یہ عقیدہ کیوں اہم ہے؟

  • اس سے قرآنِ کریم کی حفاظت جڑی ہے: اگر نیا نبی آ سکتا تو نئی وحی اور نئی شریعت کا دروازہ بھی کھلا رہتا۔
  • یہ امت کو ایک مرکز پر جمع رکھتا ہے: سب کا نبی ایک، کتاب ایک اور قبلہ ایک۔
  • اس سے حضور ﷺ کی شان اور مقام کا اظہار ہوتا ہے کہ آپ کی رسالت قیامت تک کے تمام انسانوں کے لیے کافی ہے۔

ہماری ذمہ داری

  1. اپنے بچوں کو چھوٹی عمر سے کلمہ کے ساتھ یہ بھی سکھائیں کہ حضور ﷺ آخری نبی ہیں۔
  2. اس موضوع پر مستند علمائے اہلِ سنت کی کتابیں پڑھیں اور غلط فہمی پھیلانے والے مواد سے بچیں۔
  3. سوشل میڈیا پر کوئی ایسی بات آگے نہ بڑھائیں جس کی تحقیق نہ ہو۔
  4. حضور ﷺ سے محبت کو اپنے عمل سے ظاہر کریں: سنتوں پر عمل، درود شریف کی کثرت اور اچھے اخلاق۔

خلاصہ

ختمِ نبوت کا عقیدہ قرآن کی صریح آیت، متواتر احادیث اور صحابۂ کرام کے اجماع سے ثابت ہے۔ اس پر ایمان رکھنا ہر مسلمان پر لازم ہے، اور اس کی حفاظت ہم سب کی دینی ذمہ داری ہے۔ کسی خاص مسئلے میں رہنمائی درکار ہو تو کسی مستند مفتی صاحب سے رجوع کریں۔

شیئر کریں

شیئر کریںواٹس ایپ
  • اعمال کا دار و مدار نیتوں پر ہے

    صحیح بخاری کی پہلی حدیث جو ہر نیک عمل کی روح بیان کرتی ہے۔ نیت کیا ہے، کیسے درست ہوتی ہے اور روزمرہ کاموں کو عبادت کیسے بنایا جائے۔

    احمد جابر4 منٹ کا مطالعہ

  • روزے کے فضائل اور آداب

    روزہ صرف بھوک پیاس کا نام نہیں بلکہ تقویٰ کی تربیت ہے۔ قرآن و حدیث میں روزے کی فضیلت، سحری و افطار کی سنتیں اور روزے کو بہتر بنانے کے آداب۔

    احمد جابر3 منٹ کا مطالعہ

  • دعا مانگنے کے آداب

    دعا عبادت کا مغز ہے۔ دعا کیسے مانگیں، قبولیت کے اوقات کون سے ہیں اور کن باتوں سے دعا کی قبولیت میں رکاوٹ آتی ہے۔

    احمد جابر4 منٹ کا مطالعہ