جیمز ویب خلائی دوربین: کائنات کی گہرائیوں میں جھانکنے والی آنکھ
- اشاعت
- تازہ کاری:
- منٹ
- 3 منٹ کا مطالعہ

زمین سے تقریباً 15 لاکھ کلومیٹر دور خلا میں موجود جیمز ویب دوربین کیا ہے، یہ کیسے دیکھتی ہے اور اس نے ہمیں کیا دکھایا۔
اس مضمون میں7فہرستِ مضمون دیکھیں
انسان ہمیشہ سے رات کے آسمان کو دیکھ کر سوچتا رہا ہے کہ ستاروں کے پار کیا ہے۔ جیمز ویب خلائی دوربین اسی سوال کا جواب تلاش کرنے کے لیے بنائی گئی ہے۔ یہ اب تک خلا میں بھیجی گئی سب سے بڑی اور طاقتور دوربین ہے۔
بنیادی معلومات
- یہ دوربین امریکی خلائی ادارے ناسا نے یورپی اور کینیڈین خلائی اداروں کے ساتھ مل کر بنائی۔
- اسے 25 دسمبر 2021 کو خلا میں بھیجا گیا۔
- یہ زمین سے تقریباً 15 لاکھ کلومیٹر دور ایک خاص مقام پر رہ کر کام کرتی ہے، جسے "لگرانج پوائنٹ L2" کہا جاتا ہے۔
- اس کا بڑا آئینہ 18 چھ کونے والے حصوں سے مل کر بنا ہے جن پر سونے کی باریک تہہ چڑھی ہے۔
یہ "انفرا ریڈ" میں کیوں دیکھتی ہے؟
جیمز ویب زیادہ تر انفرا ریڈ روشنی میں دیکھتی ہے، یعنی وہ روشنی جو ہماری آنکھ کو نظر نہیں آتی مگر حرارت کی صورت میں محسوس ہوتی ہے۔ اس کے دو بڑے فائدے ہیں:
- انفرا ریڈ روشنی گرد کے بادلوں کے پار جا سکتی ہے، اس لیے دوربین ان بادلوں کے اندر بنتے ہوئے ستارے دیکھ سکتی ہے۔
- بہت دور کی کہکشاؤں کی روشنی کائنات کے پھیلاؤ کی وجہ سے کھنچ کر انفرا ریڈ میں بدل جاتی ہے۔ اسی لیے جیمز ویب کائنات کی ابتدائی کہکشائیں دیکھ سکتی ہے۔
ٹھنڈا رہنا کیوں ضروری ہے؟
انفرا ریڈ میں دیکھنے والی دوربین کو بہت ٹھنڈا رہنا پڑتا ہے، ورنہ اس کی اپنی حرارت تصویر خراب کر دے۔ اس کے لیے دوربین کے ساتھ ٹینس کورٹ جتنی پانچ تہوں والی ایک ڈھال لگی ہے جو سورج، زمین اور چاند کی حرارت کو روکتی ہے۔
وقت میں پیچھے دیکھنا
روشنی کو سفر کرنے میں وقت لگتا ہے۔ جب ہم بہت دور کی کہکشاں دیکھتے ہیں تو دراصل اس کی وہ روشنی دیکھ رہے ہوتے ہیں جو اربوں سال پہلے چلی تھی۔ یوں جیمز ویب ایک طرح سے وقت میں پیچھے دیکھنے والی مشین ہے۔
اس نے کیا دکھایا؟
- اب تک دیکھی گئی بعض سب سے دور اور قدیم کہکشائیں۔
- گرد اور گیس کے بادلوں میں ستاروں کی پیدائش کے حیرت انگیز مناظر۔
- دوسرے ستاروں کے گرد گھومنے والے سیاروں کی فضا میں مختلف گیسوں کی موجودگی کے آثار۔
غور و فکر
قرآنِ کریم بار بار آسمانوں اور زمین کی تخلیق پر غور کی دعوت دیتا ہے۔ جیمز ویب کی ہر تصویر کائنات کی وسعت اور خالق کی قدرت کا احساس دلاتی ہے۔
خلاصہ
جیمز ویب خلائی دوربین 2021 میں بھیجی گئی اور انفرا ریڈ روشنی کی مدد سے کائنات کی دور ترین کہکشاؤں اور ستاروں کی پیدائش کا مشاہدہ کر رہی ہے۔ اس کی تصاویر سائنس کے ساتھ ساتھ غور و فکر کا بھی سامان ہیں۔
شیئر کریں

