مرکزی مواد پر جائیں

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

آج کی تاریخ: 9 جمادی الاولیٰ 1448ھ. حسابی ہجری تاریخ · مقامی رؤیتِ ہلال سے مشروط۔

شیئر کریں

حضرت نوح علیہ السلام اور ان کی کشتی

تحریر:احمد جابر
اشاعت
تازہ کاری:
منٹ
4 منٹ کا مطالعہ
رنگین کریون، کھلی خالی کاپی اور کاغذ کے چاند ستارے
تصویر: Sunnah info

ایک صبر کرنے والے نبی کی کہانی جنہوں نے بہت لمبے عرصے تک لوگوں کو اللہ کی طرف بلایا، اور اللہ کے حکم سے ایک بڑی کشتی بنائی۔ بچوں کے لیے قرآن سے ماخوذ کہانی۔

پیارے بچو! آج ہم ایک بہت صبر کرنے والے نبی کی کہانی سنیں گے۔ ان کا نام حضرت نوح علیہ السلام ہے۔ قرآنِ پاک میں ان کا ذکر کئی جگہ آیا ہے، اور ایک پوری سورت کا نام بھی "سورۃ نوح" ہے۔

لوگوں کو سمجھانا

حضرت نوح علیہ السلام کی قوم کے لوگ اللہ کو بھول گئے تھے اور بتوں کی پوجا کرنے لگے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت نوح علیہ السلام کو ان کی طرف نبی بنا کر بھیجا۔ آپ نے بہت پیار سے سمجھایا: صرف ایک اللہ کی عبادت کرو، وہی تمہیں رزق دیتا ہے اور وہی تمہیں معاف کرے گا۔

آپ نے دن میں بھی سمجھایا اور رات میں بھی، اکیلے میں بھی اور سب کے سامنے بھی۔ قرآنِ پاک کے مطابق آپ اپنی قوم میں ساڑھے نو سو سال رہے۔ (سورۃ العنکبوت، آیت 14) سوچیں بچو، کتنا لمبا عرصہ! مگر آپ نے ہمت نہیں ہاری۔

لوگوں کا مذاق

افسوس کہ زیادہ تر لوگوں نے بات نہیں مانی۔ وہ کانوں میں انگلیاں ڈال لیتے اور حضرت نوح علیہ السلام کا مذاق اڑاتے۔ صرف تھوڑے سے لوگ ایمان لائے۔

کشتی بنانے کا حکم

پھر اللہ تعالیٰ نے حضرت نوح علیہ السلام کو حکم دیا کہ ایک بڑی کشتی بناؤ۔ آپ نے لکڑی کے تختے جوڑ کر کشتی بنانا شروع کی۔ جب قوم کے لوگ پاس سے گزرتے تو ہنستے کہ یہاں تو سمندر بھی نہیں، یہ کشتی کہاں چلے گی؟ مگر حضرت نوح علیہ السلام اللہ کے حکم پر کام کرتے رہے۔

طوفان

جب کشتی تیار ہو گئی تو اللہ کے حکم سے آسمان سے بہت زور کی بارش برسنے لگی اور زمین سے بھی پانی ابل پڑا۔ اللہ نے حکم دیا کہ ایمان والوں کو کشتی میں سوار کر لو، اور ہر قسم کے جانوروں کا ایک ایک جوڑا بھی۔ سب سوار ہو گئے اور کشتی اونچی لہروں پر چلنے لگی۔ جنہوں نے بات نہیں مانی تھی وہ پانی میں ڈوب گئے، حتیٰ کہ حضرت نوح علیہ السلام کا ایک بیٹا بھی، جس نے کشتی میں آنے سے انکار کر دیا تھا۔

کشتی ٹھہر گئی

پھر اللہ کے حکم سے بارش رک گئی، پانی زمین میں جذب ہو گیا اور کشتی "جودی" نامی پہاڑ پر جا ٹھہری۔ (سورۃ ہود، آیت 44) حضرت نوح علیہ السلام اور ایمان والے سلامتی کے ساتھ کشتی سے اترے اور اللہ کا شکر ادا کیا۔

اس کہانی سے ہم نے کیا سیکھا؟

  1. صبر: حضرت نوح علیہ السلام نے بہت لمبے عرصے تک ہمت نہیں ہاری۔ ہمیں بھی کوئی کام مشکل لگے تو صبر کرنا چاہیے۔
  2. اللہ کا حکم ماننا: لوگ ہنستے رہے مگر حضرت نوح علیہ السلام اللہ کا حکم مانتے رہے۔
  3. اچھی بات پیار سے سمجھانا: آپ ہمیشہ نرمی سے سمجھاتے رہے۔
  4. اللہ ایمان والوں کی حفاظت فرماتا ہے۔

سوال جواب

  • حضرت نوح علیہ السلام نے کیا بنایا تھا؟ کشتی۔
  • کشتی کس پہاڑ پر ٹھہری؟ جودی پہاڑ پر۔
  • کشتی میں جانوروں کے کتنے کتنے جوڑے سوار ہوئے؟ ہر قسم کا ایک جوڑا۔

شیئر کریں

شیئر کریںواٹس ایپ