علامہ محمد اقبال: شاعرِ مشرق
- اشاعت
- تازہ کاری:
- منٹ
- 3 منٹ کا مطالعہ

سیالکوٹ میں پیدا ہونے والے اقبال نے اپنی شاعری سے مسلمانوں میں خودی اور بیداری کی روح پھونکی۔ ان کی زندگی، فکر اور پیغام کا مختصر تعارف۔
اس مضمون میں7فہرستِ مضمون دیکھیں
علامہ محمد اقبال برصغیر کے وہ عظیم شاعر اور مفکر ہیں جنہیں "شاعرِ مشرق" اور "مفکرِ پاکستان" کہا جاتا ہے۔ انہوں نے اپنی شاعری کے ذریعے غلامی میں جکڑے مسلمانوں کو ان کا کھویا ہوا مقام یاد دلایا۔
ابتدائی زندگی اور تعلیم
- اقبال 9 نومبر 1877 کو سیالکوٹ میں پیدا ہوئے۔
- ابتدائی تعلیم سیالکوٹ میں حاصل کی، جہاں ان کے استاد مولوی میر حسن نے ان کی شخصیت پر گہرا اثر ڈالا۔
- پھر لاہور کے گورنمنٹ کالج سے فلسفے میں ایم اے کیا۔
- اعلیٰ تعلیم کے لیے یورپ گئے؛ کیمبرج یونیورسٹی میں پڑھا، جرمنی کی میونخ یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کی اور لندن سے بیرسٹری کی ڈگری حاصل کی۔
شاعری
اقبال نے اردو اور فارسی دونوں زبانوں میں شاعری کی۔ ان کے مشہور اردو مجموعے "بانگِ درا"، "بالِ جبریل" اور "ضربِ کلیم" ہیں، جبکہ فارسی میں "اسرارِ خودی" اور "رموزِ بے خودی" مشہور ہیں۔ بچوں کے لیے ان کی نظمیں، جیسے "لب پہ آتی ہے دعا بن کے تمنا میری"، آج بھی اسکولوں میں پڑھی جاتی ہیں۔
فکر کے بنیادی موضوعات
- خودی: انسان اپنی صلاحیتوں کو پہچانے، اللہ پر بھروسہ کرے اور کسی کے سامنے ذلت سے نہ جھکے۔
- عشقِ رسول ﷺ: اقبال کی شاعری میں حضور ﷺ سے محبت نمایاں ہے؛ وہ امت کی کامیابی کو حضور ﷺ سے سچی وابستگی سے جوڑتے ہیں۔
- امت کا اتحاد: رنگ، نسل اور علاقے کی تقسیم سے بالاتر ہو کر مسلمانوں کی وحدت۔
- نوجوانوں سے امید: "شاہین" کا استعارہ، جو بلند پرواز اور محنت کی علامت ہے۔
پاکستان کا تصور
1930 میں الہ آباد میں آل انڈیا مسلم لیگ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اقبال نے برصغیر کے شمال مغرب میں مسلمانوں کی الگ ریاست کا تصور پیش کیا۔ یہ خطبۂ الہ آباد کے نام سے مشہور ہے اور تحریکِ پاکستان کی فکری بنیادوں میں شمار ہوتا ہے۔ انہوں نے قائدِ اعظم محمد علی جناح کو خطوط لکھ کر مسلمانوں کی قیادت کے لیے آمادہ کرنے میں بھی کردار ادا کیا۔
وفات
علامہ اقبال 21 اپریل 1938 کو لاہور میں انتقال کر گئے، یعنی پاکستان بننے سے تقریباً نو سال پہلے۔ ان کا مزار لاہور میں بادشاہی مسجد کے قریب ہے۔ 9 نومبر کو ان کا یومِ پیدائش منایا جاتا ہے۔
آج کے نوجوان کے لیے پیغام
- علم حاصل کرو، مگر اپنی دینی شناخت مت کھوؤ۔
- محنت اور خود اعتمادی سے اپنا مقام بناؤ۔
- مایوسی کو قریب نہ آنے دو۔
خلاصہ
علامہ اقبال شاعر، فلسفی اور قوم کے رہنما تھے جنہوں نے خودی، عشقِ رسول ﷺ اور امت کے اتحاد کا پیغام دیا اور پاکستان کا فکری خاکہ پیش کیا۔ ان کا کلام پڑھنا اور سمجھنا آج بھی ہماری نئی نسل کے لیے رہنمائی کا ذریعہ ہے۔
شیئر کریں


